تلے چیڑ کے میں محو خیال تھا شعائیں نور کی تھیں ہمراہ میرے شبنم بھی سوچتی تھی ساتھ میرے گل بلبل بھی میرا ہم خیال تھا ملے سوچتے تھے کہ کیونکر کو آخر ہوئ نسل انسانی پیدا زمین پر جناب ڈاروں اک جانب سے نکلے جھٹ سے دیے چند بندر بنا دھارا کچھ وقت کا اس پر بہا آخر کو انسان پیدا ہوا جنابِ شیخ بھی آۓ میدان میں بناۓ سلسلے چند انسان کے آدمء کو رکھا شروع میں انھ...
The wine of truth . [ Poem in urdu ]