Skip to main content
The wine of truth . [ poem in urdu ][مۓحق]
تلے چیڑ کے میں محو خیال تھا
شعائیں نور کی تھیں ہمراہ میرے
شبنم بھی سوچتی تھی ساتھ میرے
گل بلبل بھی میرا ہم خیال تھا
ملے سوچتے تھے کہ کیونکر کو آخر
ہوئ نسل انسانی پیدا زمین پر
جناب ڈاروں اک جانب سے نکلے
جھٹ سے دیے چند بندر بنا
دھارا کچھ وقت کا اس پر بہا
آخر کو انسان پیدا ہوا
جنابِ شیخ بھی آۓ میدان میں
بناۓ سلسلے چند انسان کے
آدمء کو رکھا شروع میں انھوں نے
اڑایا مذاق ارتقاء کا انھوں نے
دلائل کی نسبت ان سے جو پوچھا
ہوئے آپ مجھ سے، آخر یوں گویا
دلائل ہیں لازم یاں صرف انھی کو
جو نہیں مانتے ذات حق و قوی کو
اچانک ہوا نور کا ایک جھماکا
اور مرد قلندر ہوا اک ہو یدا
دیکھنا تھا اسے کہ دونوں غائب ہوئے
ہوا ہو گئے اور پھر نہ ملے
دستِ شفقت قلندر نے پھیرا جو سر پر
رازِ جہاں افشاں ہوئے مجھ پر
نہیں ہے عقل مگر اک پیمانہ
ایماں کی بھری ہے جس میں شراب
( عبدالرّؤف)
Very nice poem. Keep it up.
ReplyDelete